صدرمملکت ڈاکٹراحمدی نژاد نےایران کے جنوب مشرقی شہر بیرجند میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتےہوئے ایران کے ایٹمی پروگرام کےبارے ميں مغربی حکومتوں کے دوہرے رویے کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہاکہ مغربی ملکوں کے پاس خود ایٹم بم موجود ہےاور انھوں نےاس کاذخیرہ کررکھاہے، ان کے پاس بارہ ہزارکلومیٹر کی دوری تک مار کرنےوالے بم ہيں اوروہ کہتے ہیں کہ پوری دنیا کے اہم مراکز ان کے نشانے پرہيں ۔صدرمملکت جناب احمدی نژاد نے اس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہ مغربی ممالک نےعلاقے میں غاصب صہیونی ریاست کو ایٹم بم سے لیس کررکھاہے کہاکہ ان ملکوں نے خود این پی ٹی پردستخط نہيں کئے ہيں اورصہیونی ریاست تو آئی اے ای اے کی رکن بھی نہيں ہے پھربھی مغربی ممالک اس کی بھرپور حمایت کررہے ہيں لیکن جب ملت ایران کی بات آتی ہےتو ایٹم بم پر تشویش کےبہانے اپناکھیل شروع کرتے ہيں اورکہتے ہیں کہ انھیں تشویش ہے۔صدرجناب احمدی نژاد نے ایران کوخطرہ بناکرپیش کرنے کے سلسلےمیں مغربی ممالک کے دعوے کاجواب دیتےہوئےکہاکہ یاتمھارے ایٹم بم بے کار ہيں یا یہ کہ جھوٹ بولتےہو کہ ایران سے ڈرتے ہو۔صدرمملکت نے اس بات کی جانب اشارہ کرتےہوئے کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ یہ ممالک جھوٹ بول رہےہيں مغربی ممالک اورامریکہ کومخاطب کرتےہوئےکہاکہ خود تمھارے پاس دس ہزار ایٹم بم ہیں کیادنیا کوتم سے تشویش لاحق نہيں ہونی چاہئے۔ہم ایٹم بم نہیں بنارہے ہیں اور ہمارا بم یہی ہمارے عوام ہيں۔صدرجناب احمدی نژاد نے کہاکہ انھیں جان لیناچاہئے کہ ہم ملت ایران کی عزت ترقی کےلئے اللہ کے فضل سے اپنی تمام صلاحیتوں کوبروئے کار لائيں گے۔صدرمملکت نے زوردے کر کہاکہ میں پورے فخرسے کہتاہوں کہ ملت ایران کےتعاون کے بغیرعالمی برادری کاکوئي مستقبل نہیں ہوگا، وہ جانتے ہیں لیکن ہم ایک بارپھر یہ دہرانا چاہتے ہيں تاکہ وہ سن لیں کہ ہم انصاف کی بنیاد پر تعمیری تعاون کرتے ہيں۔
........................
/110